ارشاد ربانی ہے ’’تم نے دیکھا نہیں اس شخص کو جو آخرت کی جزا سزا کو
جھٹلاتا ہے وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔ [3:107] ایک روز رسول اللہﷺ نے مدینے کی گلی میں ایک بچے کو روتے دیکھا آپﷺ نے بچے سے رونے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہانہ میری ماں ہے نہ میرا باپ ہے۔ آپﷺ نے فرمایا آج سے میں تمہارا باپ ہوں اور عائشہؓ تمہاری ماں ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’بیوہ اور غریب کیلئے دوڑ دھوپ کرنیوالا خدا کے مجاہد کی طرح ہے اور اسکے برابر جو دن بھر روزہ رکھتا ہے اور رات بھر نماز پڑھتا ہے‘‘۔ [بخاری] کہتے ہیں کہ عبدالستار ایدھی تعلیم یافتہ نہیں تھے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ تعلیم یافتہ لوگوں کیلئے بہت بڑے معلم ثابت ہوئے۔ انہوں نے اللہ اور اسکے رسولﷺ کے پیغام کو سمجھا اور اس کا مثالی عملی نمونہ پیش کیا۔ ایدھی صاحب بونوں کی سرزمین میں قد آور شخصیت تھے ان کیلئے ہر لقب اور خطاب کم پڑجاتا ہے۔ وہ یتیموں کے والی، غریبوں کا سہارا، فخر پاکستان، فرشتہ سیرت انسان، مجاہد اعظم، مرد مومن، انسان کامل، خادم انسانیت بلکہ امام انسانیت تھے جنہوں نے انسانوں کو جینے کا چلن سکھایا۔
اسلام کی تاریخ میں (حقوق اللہ) یعنی عبادات پر بہت زور دیا جاتا رہا ’’حقوق العباد‘‘ یعنی معاملات نظر انداز ہوتے رہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ رب کی منشاء کیمطابق صالح معاشرہ تشکیل نہ پاسکا اور دنیا مساوات کی بجائے امیر اور غریب اور مظالم و مظلوم میں تقسیم ہوکررہ گئی اور کائنات کا توازن ہی بگڑ گیا۔ بدالستار ایدھی نے حقوق العباد پر توجہ دی انسانیت کو اپنا مذہب جانا اور سادگی کو اپنا ہتھیار بنایا ۔ انکے راستے میں بہت سے ’’مقامات آہ و فغان‘‘ آئے۔ کراچی کرپشن اور دہشتگردی کا گڑھ بن گیا۔ عبدالستار ایدھی قوت ایمانی کی بدولت ثابت قدم رہے۔ امانت دیانت اور خدمت جیسے سنہری اُصولوں نے انکی مشکلات کو آسان بنادیا اور وہ اپنی زندگی کی اننگ بے مثال طور پر مکمل کرنے میں کامیاب رہے۔ سرکاری اعزاز، احترام اور شان و شوکت کیساتھ انکی تدفین کی گئی۔
عسکری و سیاسی شخصیات انکے جنازے میں شریک ہوئیں۔ عبدالستار ایدھی کی مستیٔ کردار نے نہ صرف پاکستان کے عوام بلکہ پوری دنیا کے عوام کو متاثر کیا۔ جو کام حکومت اور ریاست نہ کرسکی وہ کام تنہا عبدالستار ایدھی نے کردکھایا۔ عبدالستار ایدھی نے خدمت خلق کا آغاز 1951ء میں ایک ڈسپنسری سے کیا تھا۔ انہوں نے اپنی ذاتی خواہشات کا گلا گھونٹ دیا۔ نبیوں کی پیروی کرتے ہوئے سادگی اور کفایت شعاری کو اپنی زندگی کا اصول بنایا پھر اس کے بعد اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کے دروازے ان پر کھول دئیے گئے اور وہ دنیا کا سب سے بڑا ایمبولینس نیٹ ورک قائم کرنے میں کامیاب رہے۔ پاکستان بھر میں 1500 ایمبولینسیں دکھی انسانوں کو سہولت فراہم کررہی ہیں۔ انہوں نے 50ہزار یتیموں کی سرپرستی کی۔ 20ہزار لاوارث بچوں کو آشیانہ فراہم کیا۔ 330 ایدھی ویلفیئر سینٹر قائم کیے۔ سیلاب، زلزلہ، دہشت گردی اور قدرتی آفات کی صورت میں ایدھی فائونڈیشن کے تجربہ کار خدام سب سے پہلے اللہ کے بندوں کی مدد کو پہنچتے۔ ایدھی صاحب نے مسلک، مذہب، زبان اور نسل کی تفریق سے بالاتر ہوکر انسانیت کے رشتے کے جنون میں دکھی انسانوں کی مدد کی۔ انکی امدادی ٹیمیں بوقت ضرورت بیرونی ممالک میں بھی پہنچیں۔
خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں
بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا
جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا
عبدالستار ایدھی کو انکی بے مثال انسانی فلاحی خدمات کے اعتراف میں اعزازات، ایوارڈز اور اعزازی ڈگریوں سے نوازا گیا۔ انکے جسم میں غریب کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ انکی زبان پر آخری جملہ بھی یہ تھا ’’میرے بعد پاکستان کے غریبوں کا خیال رکھنا‘‘۔ محترمہ بلقیس ایدھی نے بھی پورے جذبے اور جنون سے اپنے شوہر کا ساتھ دیا۔ عبدالستار ایدھی کو خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم انکے مقدس مشن کو جاری رکھنے کا عہد کریں اور انکے روحانی سماجی ورثے ’’ایدھی فائونڈیشن‘‘ کو غیر فعال نہ ہونے دیں۔ بلاشک وہ نوبل انعام کے حقدار ہیں۔ ایدھی صاحب جیسا ایک بھی سیاستدان ہوتا تو پاکستان میں سیاست کا قبلہ درست ہوچکا ہوتا۔ اگر ایدھی صاحب کی آنکھیں حکمرانوں کو لگادی جاتیں تو انہیں پاکستان کے غریب نظر آنا شروع ہوجاتے۔ امام انسانیت عبدالستار ایدھی کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ایک شعر ان کی نذر کرتا ہوں۔
مت سہل انہیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
وزیراعظم میاں نواز شریف مکمل طور پر صحت مند ہوکر پاکستان واپس پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے جہاز کی سیڑھیاں کسی سہارے کے بغیر اُتر کر اپنی صحت مندی کا ثبوت فراہم کردیا۔ وزیراعظم کی صحت کی خبر پاکستانی قوم کیلئے حوصلہ افزاء ہے کیونکہ پاکستان کو مکمل طور پر صحت مند چیف ایگزیکٹو کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے ائیر پورٹ پر صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ وہ نئی تاریخ رقم کرینگے اور نئے جذبے کے ساتھ مسائل کا سیاسی حل تلاش کرینگے۔ نئی تاریخ رقم کرنے کا عزم ناقابل فہم ہے کیونکہ میاں نواز شریف اپنا باب لکھ چکے جس کا درست تجزیہ آنے والے مؤرخ کرینگے۔ اخباری رپورٹ کیمطابق وزیراعظم کی واپسی کیلئے پی آئی اے کے کمرشل طیارے پر عوام کے ٹیکسوں کے تیس کروڑ روپے صرف ہوئے جو ایک ریکارڈ ہے۔ اگر وزیراعظم کو قوم کے بیت المال اور اللہ کے سامنے جواب دہی کا احساس ہوتا تو وہ متبادل انتظام کرکے قوم کا خزانہ بچا بھی سکتے تھے۔ وہ وزیراعظم کیلئے مختص وی آئی پی طیارے پر سفرکرسکتے تھے مگر یہ طیارہ شاید ’’محفوظ‘‘ نہ سمجھا گیا۔ میاں نواز شریف ایشیا کے مہنگے ترین وزیراعظم ثابت ہوئے۔ دانشور درست کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف اپنے دشمن آپ ہیں اور ایسے اقدامات کرتے ہیں جو انکی شخصیت کو متنازعہ بناتے ہیں اور ایسے اقدامات سے گریز کرتے ہیں جو انکی شہرت اور ساکھ میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ مقتدر قوتوں کا آسان ٹارگٹ بن جاتے ہیں۔
ہر خاص و عام مطالبہ کررہا ہے کہ کل وقتی وزیرخارجہ نامزد کیا جائے مگر وزیراعظم رائے عامہ کو اہمیت نہیں دیتے۔ ریاست کا نظم و نسق مستعدی سے چلانے کیلئے لازم ہوتا ہے کہ وزراء کی کارکردگی کا جائزہ لیکر کابینہ میں ردوبدل کیا جائے۔ وزیراعظم نے 2013ء میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ وزیروں کی مانیٹرنگ کی جائیگی اور کارکردگی کا جائزہ لیا جائیگا مگر وزیراعظم اپنا وعدہ پورا کرنے سے قاصر رہے جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ انہیں پاکستان کی ریاست کا کوئی درد نہیں ہے۔ آپریشن ضرب عضب کا تقاضہ ہے کہ وزیراعظم وزیرستان کے اگلے مورچوں میں جاکر پاک فوج کے جوانوں کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ فوج اور عوام میں انکے بارے میں پسندیدگی کے جذبات پیدا ہوں۔ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل(ر) احسان الحق کے مطابق چین کی قیادت حکمران اشرافیہ کو ہمیشہ یہ مشورہ دیتی رہی ہے کہ باتیں کم اور کام زیادہ کریں۔
وزیراعظم کو اس مشورے پر عمل کرنا چاہیئے۔ اشتہاروں پر قوم کا پیسہ ضائع کرنے کی بجائے عملی اقدامات کریں۔ میاں نواز شریف کے بارے میں مقبول عام تاثر یہ ہے کہ وہ اداروں کو غیر فعال بنا دیتے ہیں جس سے بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں۔ وزیراعظم اگر سیاسی بحران سے باہر نکلنا چاہتے ہیں تو انہیں ایک ماہ کے اندر چند اقدامات ترجیحی بنیادوں پر اُٹھانے چاہئیں۔ وہ مہنگائی کنٹرول کریں، احتساب کیلئے ٹی او آرز پر اتفاق رائے پیدا کریں۔ معطل اور مفلوج الیکشن کمیشن کو فعال بنائیں۔ نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس بلا کر سول ملٹری ٹینشن ختم کرائیں۔ وزیراعظم مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ظلم و ستم اور ریاستی دہشتگردی پر مذمتی بیان جاری کریں تاکہ ان کا عوامی تاثر بہتر ہوسکے۔ انکی مودی کے ساتھ بڑی قربت ہے‘ مودی کو فون کرکے اپنے جذبات سے آگاہ کریں۔
سرتاج عزیز صاحب کیمطابق فاٹا اصلاحات کا ڈرافٹ تیار ہے وزیراعظم بلا تاخیر
اسکی منظوری دیں۔ مردم شماری کا کام فوری طور پر شروع کرایا جائے۔ اپوزیشن وزیراعظم کیخلاف صف بندی کررہی ہے۔ وزیراعظم متحرک اور فعال کردار ادا کرکے ہی اپوزیشن کے منصوبوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ اگر انہوں نے شاہانہ انداز حکومت اور طرز سیاست جاری رکھا تو ان پر اس قدر دبائو آئیگا کہ انکے پاس چہرہ بدلنے یا نئے انتخابات کرانے کے سوا اور کوئی چارہ کار باقی نہیں رہے گا۔ اس طرح ان کا سیاسی مستقبل ہی خطرے میں پڑ جائیگا۔
قیوم نظامی
جھٹلاتا ہے وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔ [3:107] ایک روز رسول اللہﷺ نے مدینے کی گلی میں ایک بچے کو روتے دیکھا آپﷺ نے بچے سے رونے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہانہ میری ماں ہے نہ میرا باپ ہے۔ آپﷺ نے فرمایا آج سے میں تمہارا باپ ہوں اور عائشہؓ تمہاری ماں ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’بیوہ اور غریب کیلئے دوڑ دھوپ کرنیوالا خدا کے مجاہد کی طرح ہے اور اسکے برابر جو دن بھر روزہ رکھتا ہے اور رات بھر نماز پڑھتا ہے‘‘۔ [بخاری] کہتے ہیں کہ عبدالستار ایدھی تعلیم یافتہ نہیں تھے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ تعلیم یافتہ لوگوں کیلئے بہت بڑے معلم ثابت ہوئے۔ انہوں نے اللہ اور اسکے رسولﷺ کے پیغام کو سمجھا اور اس کا مثالی عملی نمونہ پیش کیا۔ ایدھی صاحب بونوں کی سرزمین میں قد آور شخصیت تھے ان کیلئے ہر لقب اور خطاب کم پڑجاتا ہے۔ وہ یتیموں کے والی، غریبوں کا سہارا، فخر پاکستان، فرشتہ سیرت انسان، مجاہد اعظم، مرد مومن، انسان کامل، خادم انسانیت بلکہ امام انسانیت تھے جنہوں نے انسانوں کو جینے کا چلن سکھایا۔




0 Comments