Edhi

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Visit Dar-us-Salam.com Islamic Bookstore Dar-us-Salam sells very Authentic high quality Islamic books, CDs, DVDs, digital Qurans, software, children books & toys, gifts, Islamic clothing and many other products.Visit their website at: https://dusp.org/

ایدھی کی جلائی ہوئی شمع

پاکستانی سیاست میں ایک ناکام انتخابی امیدوار کس طرح مقبولیت کا انتہائی عروج
حاصل کرتا ہے ، اس ملک کے اکثر سیاست دانوں کو عبدالستار ایدھی کی زندگی کو توجہ سے پڑھنا چاہئے۔ بہت سارے سیاست داں لا علم ہوں گے کہ ایدھی نے 1970 کے انتخابات میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا تھا، قومی اور صوبائی اسمبلی میں ناکام رہے تھے ۔ پھر اکتوبر 1975کو منعقد ہونے والے ایک ضمنی انتخاب میں بھی قِسمت آزمائی کی تھی۔ یہ نشست جمعیت علماء پاکستان کے قائد مولانا شاہ احمد نورانی کے پاکستان کے وجود میں آنے والے پہلے ایوان بالا یعنی سینٹ میں منتخب ہونے کے باعث خالی ہوئی تھی۔  پاکستان پیپلز پارٹی نے   جسٹس جناب نور العارفین کو دوبارہ نامزد کیا تھا ۔

جمعیت نے ایم حنیف کو نامزد کیا تھا۔ اس مقابلے میں عبدالستار ایدھی نے بھی حصہ لیا تھا۔ وہ صرف 7611 ووٹ حاصل کر سکے تھے جب کہ جسٹس نور العارفین نے 27632 ووٹ لئے تھے اور جے یو پی کے ایم حنیف کو 24224 ووٹ ڈالے گئے تھے ۔ اس حلقہ میں رجسٹرڈووٹوں کی کل تعداد اس وقت ڈیڑھ لاکھ سے کچھ زائد تھی۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ ایدھی صاحب سیاسی لحاظ سے اس وقت بھی اتنے مقبول نہیں تھے کہ اپنی برادری کے ووٹ ہی حاصل کر پاتے حالانکہ اس وقت بھی وہ سماجی خدمت میں مشغول تھے ۔ ویسے آج بھی جب وہ پوری قوم کے لئے محترم اور مکرم ہوگئے تھے ، انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتے تھے ۔ اس وقت تو وہ صرف ستار ایدھی تھے ۔ یہ قوم کا مزاج ہے کہ وہ سماجی خدمت کرنے والوں کی خدمت کا کسی قومی انتخاب میں اعتراف کرنے کی بجائے ان لوگوں کو ہی منتخب کرتی ہے جو ان پر اپنا حکم چلانا یا ہا نکنا جانتے ہیں۔
جب ایدھی ضمنی انتخابات میں حصہ لے رہے تھے تو قاضی سلیم مرحوم حیدرآباد سے انگریزی ہفتہ روزہ سندھ آبزرور شائع کر رہے تھے۔ انہوں نے ایدھی کا 
انٹرویو کرنے کا منصوبہ بنایا۔ میں بھی کراچی سفر میں ان کا ہم رکاب تھا۔ ایدھی سے جب ملاقات ہوئی ، دوران گفتگو قاضی سلیم نے ان سے سوال کیا کہ سیاست میں کن اسباب کی وجہ سے کیوں حصہ لے رہے ہیں ؟ سادہ مزاج ایدھی جو اس وقت بھی ملیشیا کی قمیض اور خا کی نیکر پہنے ہوئے تھے ، سادگی سے کہنے لگے کہ اس ملک میں سماجی انصاف نہیں ہے، میں چاہتا ہوں کہ غریبوں کی حالت تبدیل ہو۔ سلیم قاضی خود بھی سماجی تبدیلی کے داعی اور خواہش مند تھے ۔ اس سلسلے میں انہوں نے خاصہ مطالعہ کیا ہوا تھا اور چوں کہ وہ کمیونسٹ خیالات سے اتفاق ر کھتے تھے اور پاکستان میں سوشل ازم اور کمیونزم کی بنیاد پر سماجی تبدیلی چاہتے تھے ، وہ ایدھی کے ساتھ اس بحث میں محو ہوگئے کہ پاکستان میں سماجی تبدیلی کیسے ممکن ہے۔

دوران گفتگو انہوں نے ایدھی صاحب سے سوال کیا کہ کیا وہ اپنے آپ کو صرف ایک سماجی خدمت گار تصور کرتے ہیں یا reformist ہیں۔ ایدھی صاحب نے سادگی سے جواب دیا تھا کہ وہ توغریب کی حالت میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ سلیم قاضی بھی یہ ہی چاہتے تھے ۔ ا نہیں مہلت نہیں ملی کہ جوانی میں ہی سپر ہائی وے پر ایک حادثہ میں ان کی زندگی ختم ہو گئی تھی۔ قاضی سلیم مرحوم اسلم قاضی کے چھوٹے اور علی قاضی کے بڑے بھائی تھے ۔ یہ قاضی برادران کے ٹی این ٹی وی چینل کے علاوہ سندھی زبان کا بڑا اخبار کاوش شائع کرتے ہیں۔ ایدھی صاحب بہر حال سیاست دان نہیں بن سکے ، انتخابی سیاست میں ناکام رہے اور اچھا ہی ہوا کیوں کہ پاکستان کو اس وقت بھی، آج بھی اور (شائد) طویل عرصے تک ایدھی صاحب جیسے بے لوث ، سادہ، مخلص، ایماندار ، انتھک محنتی اور پاگل پن کی حد تک جذبے سے سرشار سماجی کارکنوں کی اسمبلیوں میں ضرورت نہیں ہے ۔ اور معاشرے میں وہ تبدیلی نہیں لاسکے جس کا اکثر ذکر وہ کیا کرتے تھے کہ غریبوں کو سماجی انصاف مل سکے۔

ایدھی نے جب کراچی میں تن تنہا سماجی خدمت کا بیڑہ اٹھایا تو انہیں ان کی برادری میں بھی لوگ محدود تعداد میں جانتے تھے۔ پوری برادری بھارت سے ہجرت کر کے کراچی میں آباد ہوئی تھی۔ پیسے کی جو ریل پیل ہم آج دیکھتے ہیں وہ بھی خال خال تھی۔ سماجی کام اور خدمت ہندو، پارسی یا مسیحی کیا کرتے تھے  ہندو قیام پاکستان کے بعد چلے گئے تھے اور بقایا اپنی بساط کے مطابق کام کرتے رہے ۔ ایدھی نے بیڑہ اٹھایا۔ جب وہ اتنے مشہور ہوئے کہ انہوں نے شائد خود سوچا تھا کہ انہیں سیاست میں حصہ لینا چاہئے تاکہ وہ پاکستان میں کسی سماجی انقلاب میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ 

ان جیسے لوگوں کا احترام تو کیا جاتا ہے ، لوگ آنکھ بند کرکے بڑی بڑی رقم کسی نمائش کے بغیر ان کے حوالے کر دیا کرتے تھے ، ان کی ایک اپیل پر خواتین اپنے زیور پوٹلی میں لا کر ان کی نذر کردیتی تھیں۔ ان لوگوں کو ایدھی صاحب پر ان دیکھا اعتبار تھا کہ ان کی مالی اعانت ایدھی صاحب کے ہاتھوں بہتر مقام پائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایدھی کا وسیع نیٹ ورک چلا رہے تھے جس کا سالانہ بجٹ ڈیڑھ دو ارب روپے ہوتا ہے۔ عوام کو اکثر سیاست دانوں پر وہ اعتبار حاصل نہیں ، جو انہیں یا عمران خان کو حاصل ہے۔ اکثر سیاست دان بھی تو سرکاری رقومات میں خیانت یا غفلت کے مرتکب پائے جاتے ہیں۔ ایدھی صاحب ریاست سے لوگوں کو سماجی انصاف تو نہیں دلا سکے البتہ انفرادی طور پر لوگوں کو سماجی انصاف فراہم کرنے کی انہوں نے تھکا دینے والی کامیاب مشق ضرور کی۔

ایدھی کے احترام کا عالم یہ تھا کہ ایک مرتبہ ان کا ہیلی کاپٹر دادو کے جنگل میں غلطی سے پہنچ گیا۔ جنگل میں موجود ڈاکوؤں نے سمجھا کہ پولس کی کوئی کارروائی ہے۔ ہیلی کاپٹر کو قبل اس کے کوئی گولی لگتی، ا حتیاط کے ساتھ نیچے اتار لیا گیا۔ ڈاکوؤں نے جب ایدھی صاحب کو دیکھا تو خوشی میں سینکڑوں فائر کر دئے۔ انہیں کھانا کھلائے بغیر واپس جانے نہیں دیا گیا اور جب وہ واپس جانے لگے تو پھر انہیں سلامی دینے کے لئے سینکڑوں فائر کئے گئے۔ ہے کوئی حکمران یا سیاست دان جسے اتنی وقعت نصیب ہو۔ ایدھی تو انتخابی سیاست کا ایک ناکام نام تھا۔ آج کراچی ہو یا گلگت، ملک کے کونے کونے میں ایدھی کا نام گونجتا ہے۔ جسے کہیں سے کچھ نہیں مل پاتا وہ ایدھی مرکز پہنچ جاتا ہے۔ بچہ ہو، کھو جانے والا ہو، مر دہو یا عورت ہو، لاوارث ہو، زندہ ہو، مردہ ہو، بلا امتیاز رنگ و نسل، زبان ، مذہب، سب ہی کے درد کا علاج ایدھی صاحب کے پاس تھا۔ 

ایک ٹیلی فون کال پر ایدھی ایمبولنس سروس دروازے پر موجود ہوتی ہے۔ بارش طوفانی رخ اختیار کرے، سیلاب آجائے، زلزلہ تباہی پھیلا دے ، دہشت گرد اپنی دہشت سے قتل کا بازار گرم کردیں اور سب ہی پناہ تلاش کریں ایدھی صاحب اور ان کے رضاکار میدان میں کھڑے پائے جاتے ہیں۔ ذرا تصور کریں کہ اگر ایدھی صاحب میدان عمل میں نہ ہوں تو ہماری یہ حکومتیں کہاں کھڑی ہوں گی؟ ایدھی نے خدمت خلق کے لئے لازوال بے مثال کام کیا جس کے نتیجے میں حکومتوں کی ناکارہ کارکردگی پر پردہ ہی پڑا رہا۔ ایک دفعہ خود ایدھی صاحب نے کہا تھا کہ نہ جانے ہماری حکومتوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ضرورت کے وقت ان کے پاس عوام کے لئے کوئی سامان ہی موجود نہیں ہوتا ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن تو چندوں پر چلنے والی تنظیم ہے ہمارے اسٹور میں حکومت سے بہت زیادہ طبی ضرورتوں کا سامان موجود ہے۔

ایدھی حکومتوں ، دولت مند طبقے (جس سے سیاست دانوں کی اکثریت تعلق رکھتی ہے) اور وسائل سے محروم عوام کے درمیاں موٹر کار کے اس پرزے کی حیثیت رکھتے تھے جسے شاک آبزرور کہا جاتا ہے ۔ وہ خود کڑے احتساب کے قائل تھے جس کا مظاہرہ پور ی زندگی انہوں نے اپنی ذات کے ساتھ بھی کیا۔ جسم پر ملیشیاء کے دو عدد جوڑوں ، سر پر ایک بوسیدہ حال جناح کیپ اور پاؤں میں پھٹا پرانا جوتا پہن کر پوری زندگی گزار دی ۔ اس سے بڑا اور کڑا احتساب اور کیا ہو سکتا ہے۔ سادہ لباس، سادی زندگی، سادہ کھانا، سادی رہائش ۔ ایدھی صاحب کی موت پر تعزیت کرنے والے بیانات دینے کی بجائے ان کی پیروی میں اپنی زندگی کے معمولات کو ہی سادہ کر لیں تو ایدھی صاحب کے لئے اس سے بڑا خراج عقیدت کچھ اور نہیں ہوگا۔ ایدھی نام نمود اور شہرت سے ہمیشہ اکتاہٹ ظاہر کیا کرتے تھے ۔

وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ مجھے اس کی ضروت نہیں ہے۔ ایک دفعہ تو انہوں نے باقاعدہ اعلان کیا تھا انہیں تقریبات میں مدعو نہیں جائے کیوں کہ شرکت کی وجہ سے ان کا وقت ضائع ہوتا ہے۔ یہ وہی ایدھی ہیں جنہوں نے طلب کرنے پرمرحوم سلیم قاضی کو اپنی اور بلقیس ایدھی کے پاسپورٹ سائز فوٹو شائع کرنے کے لئے فراہم کئے تھے ۔ سماجی خدمت میں مصروفیات نے ان کی خواہش پر ایسی گرد ڈال دی تھی کہ انہوں نے بذات خود کبھی اپنی تشہیر کی کوشش ہی نہیں کی۔ ان میں باعث تعریف یہ بڑی خوبی تھی کہ وہ خود میدان میں ہمہ وقت موجود رہنا جانتے تھے ۔ آستین چڑھا کر نالوں میں سے مسخ شدہ ان لاشوں کو بھی نکالا کرتے تھے جنہیں نکالنے کیلئے رشتہ دار بھی آمادہ نہیں ہوتے تھے ۔

حیدرآباد پریس کلب کی چندے جمع کر کے عمارت 1993 ء میں تعمیر ہو چکی تھی تو راقم انہیں کلب لے آیا تھا۔ انہوں نے عمارت کا دورہ کیا تھا۔ کام کی تعریف کی تھی۔ کینٹین میں بہت ہی سادہ کھانا تناول کیا تھا۔ا س وقت بھی وہ اخبار کیلئے گفتگو کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔ 2011 ء میں زیریں سندھ میں بارشوں نے جب سیلابی کیفیت اختیار کر لی تھی تو وہ حیدرآباد آئے تھے۔ مصروف حیدر چوک پر سڑک کے کنارے بیٹھ کر انہوں نے چندہ جمع کرنا شروع کر دیا تھا تاکہ مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کر سکیں۔ ایدھی صاحب دانستہ بھی لوگوں کو سماجی خدمت میں شامل کرنے کیلئے چندہ جمع کرنے کی مہم چلایا کرتے تھے ۔ وہ لا علم نہیں تھے کہ ان کے ایک فون پر لوگ کروڑوں نچھاور کردیں گے لیکن وہ یہ پسند ہی نہیں کرتے تھے کہ دولت مند لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلا ئیں یا سوال کریں اور عام لوگوں کو اپنے سماجی کام کا حصہ نہ بنائیں۔

صحافی شبیر تابش درست ہی کہتے ہیں کہ ایدھی صاحب ہوں، رمضان چھیپا ہوں یا سیلانی کے یوسف ذکریا ، یہ لوگ اپنی بے لوث خدمات کے باعث انقلاب کا راستہ روکنے کا سبب بن ر ہے ہیں۔ وہ ہی راستہ جس کا خواب خود ایدھی صاحب دیکھا کرتے تھے ، سلیم قاضی مرحوم نے دیکھا تھا۔ لوگوں کی بہت بڑی تعداد آج بھی دیکھ رہی ہے۔ ایدھی اپنی بیمارماں کی خدمت کے باعث ایدھی صاحب بن گئے، اسی طرح جیسے عمران خان اپنی والدہ شوکت خانم مرحومہ کی بیماری کی وجہ سے پاکستان میں سرطان کے علاج کے کینسر اسپتال کھڑے کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ایدھی صاحب کے بعد ان کی جلائی ہوئی شمع روشن رکھنے کا معاملہ ہے۔ بلقیس ایدھی خود بھی معمر ہو گئی ہیں۔ اب یہ شمع ان کے صاحبزادے کے ہاتھ جانی ہے۔

فیصل کو بڑی احتیاط کے ساتھ اپنے والد کے نام کو اونچا ہی رکھنا پڑے گا۔ انہیں ان کے بارے میں سوشل میڈیا پر ایسی خبروں کی خودوضاحت یا تردید کرنا چاہئے کہ انہوں نے فاؤنڈیشن کی رقموں سے بیرون ملک جائیدادیں خریدی ہیں۔ فاؤنڈیشن کو حاصل غیر متزلزل اعتماد اگر متزلزل ہو گیا تو اتنا بڑا نیٹ ورک چلانے والی فاؤنڈیشن زمین بوس ہو جائے گی۔ ایدھی صاحب میں بعض انسانی کمزوریاں بھی تھیں جن کا ذکر تلخی سے بلقیس ایدھی نے بھی اپنے ایک اخباری انٹر ویو میں ایک حوالے سے کیا تھا، لیکن ایدھی تو ہر ایک کا درد خود سمیٹ لینا چاہتے تھے  اس درد کو سمیٹتے سمیٹتے وہ 8 جولائی کو اس دار فانی سے92 برس کی عمر پا کر کوچ کر گئے ۔

علی حسن

Post a Comment

0 Comments