Edhi

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Visit Dar-us-Salam.com Islamic Bookstore Dar-us-Salam sells very Authentic high quality Islamic books, CDs, DVDs, digital Qurans, software, children books & toys, gifts, Islamic clothing and many other products.Visit their website at: https://dusp.org/

ایدھی سنٹر:ایک معجزہ اور اسلامی ورثہ

عبدالستار ایدھی بھی اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ اللہ کریم ان جیسی بامقصد
زندگی ہر انسان کو عطا کرے۔ ’’بامقصد‘‘ سے میری مراد مِشنری زندگی ہے۔ خداوندِ ذوالجلال نے ہر انسان کو ایک مشن دے کر زمین پر اتارا ہے اور خود وہ کہیں دائیں بائیں آگے پیچھے نیچے اوپر بیٹھا دیکھتا رہتا ہے کہ کس نے وہ مشن پورا کیا اور کس نے فراموش کر دیا۔ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا کو جب زمین پر بھیجا گیا تو ان کی بے سرو سامانی تصور کی جا سکتی ہے۔ ان دونوں نے افزائشِ نسلِ انسانی کے ساتھ ساتھ اس نسل کی تربیت کا بیڑا بھی اٹھایا اور آئندہ کو گزشتہ سے بہتر اور خوب تر بنانے کا درس دیا۔ یہ نسل بالآخر آنحضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس پر جا کر ’’بہترین اور خوب ترین‘‘ ہو گئی تو خدا کا پیام آیا کہ آج میں نے اپنے دین کو آپؐ پر مکمل کر دیا ہے۔ لیکن اس سے اگلی آیت کریمہ اگرچہ اُس سورہ میں نہیں ہے لیکن قرآن کی ساری114 سورتوں میں موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ:’’ اے انسان! میں نے تو اپنا دین مکمل کر دیا ہے لیکن تمہارا دین مسلسل ہے، وہ ابھی بند یا مکمل نہیں ہوا۔ وہ اُس وقت تک جاری و ساری رہے گا جب تک اس کرۂ ارض پر نسلِ انسانی کا وجود باقی رہے گا۔‘‘ ۔

یہی وہ مشن ہے جو خدا نے انسان کو سونپ رکھاہے اور جس کو مولانا حالیؔ نے اپنی مسدس میں اس طرح بیان کیا ہے کہ اگر عبادت اور دین و ایمان کا کوئی مقصود ہے تو یہی ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کے کام آئے۔ یہی مشن ہے جو قیامت تک جاری رہے گا۔ اس مشن کے شواہد دنیا میں جا بجا دیکھے جا سکتے ہیں اور خدا کا پاکستان پر احسانِ عظیم ہے کہ اس مملکتِ خداداد میں بھی یہ شواہد بڑی فرا وانی سے موجود ہیں۔ ایدھی سنٹر انہی شواہد میں سے ایک ہے اور سب سے بڑا ہے لیکن اس کے علاوہ بھی ہمارے درمیان بہت سے ایسے سنٹر موجود ہیں جو ایدھی سنٹر کے طول و عرض تک بھی پھیل سکتے ہیں اور ایسے عبدالستار ایدھی اور بھی ہیں جو انسانیت کے اس مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں ہرچند کہ ان کے نام مختلف ہوں گے۔
پاکستانی معاشرے میں ہزاروں لاکھوں برائیاں اور بدیاں ہوں گی اور ہیں بھی لیکن ان کے ساتھ ہزاروں لاکھوں اچھائیاں اور نیکیاں بھی ہمرکاب ہیں جن کے مظاہر ایدھی مرحوم کی ذات و صفات میں دیکھنے والے کو نظر آ سکتے ہیں۔ ہمیں ذاتِ باری سے چشمِ بینا بھی طلب کرتے رہنا چاہئے۔ یہی آنکھ، دِل کا نور بھی ہے اور یہ نور پاکستان میں جگہ جگہ نظر بھی آتا ہے۔ اندھیرے چار سو نہیں پھیلتے، اُجالوں کے جھروکے کہیں نہ کہیں ضرور کُھلے رہتے ہیں۔ 5 جولائی کو 29 واں روزہ تھا۔ اور میرے سمیت اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ رمضان المبارک کے 30 روزے ہوں گے اور چاند 6 جولائی کو ہی نظر آئے گا۔ حسبِ معمول رویتِ ہلال کمیٹی کا اجلاس شام کو شروع ہوا اور پھر ہوتا ہی چلا گیا۔ نو بجے شب میں نے دیکھا تو ابھی ’’ہو‘‘ رہا تھا اور لوگ مسجدوں کی طرف نماز تراویح کے لئے رواں دواں تھے۔

میں لاہور کینٹ میں جہاں رہتا ہوں اسے ’’عسکری ون‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں تقریباً 600 گھر ہیں لیکن سب تین اور چار منزلہ بلاکوں کی صورت میں ہیں۔ میں جس بلاک میں رہتا ہوں وہ سہ منزلہ ہے۔ میرا فلیٹ گراؤنڈ فلور پر ہے جس کے آگے پیچھے پانچ سات مرلے کے لان ہیں جن میں، میں نے اپنا باغبانی کا وہ شوق پورا کیا ہوا ہے جو فوج کی 29 سالہ ملازمت کے دوران پالا تھا۔ یہ اتفاق کی بات ہے کہ مجھے سروس کے دوران جن سرکاری گھروں میں رہنے کا موقع ملا ان کی اکثریت برٹش دور کی تھی جن کے آگے پیچھے وسیع اور سرسبز لان تھے اور ان میں پھلدار درخت از قسم سیب، انگور، بادام، خوبانی، آلو بخارا اور آم وغیرہ لگے ہوئے تھے۔ شجر کاری کو ہم صدقہ جاریہ کہتے ہیں لیکن انگریز نے اس کو ’’صدقۂ جاریہ و ساریہ‘‘ بنایا ہوا تھا۔ یعنی اس میں موجودہ اور آئندہ دونوں زمانے شامل تھے۔

ان درختوں کے پھلوں سے نہ صرف یہ کہ ہم خود لذتِ کام و دہن کا سامان کیا کرتے تھے بلکہ کئی دوستوں کو کریٹ بھر بھر کر بھیجا بھی کرتے تھے اور ان عیسائی فوجیوں کو دُعائیں دیا کرتے تھے جنہوں نے یہ پھلدار پودے بوئے تھے۔ جب ان کی پوسٹنگ ہوتی تھی تو نئے انگریز اپنے پیشرو فوجیوں کے لگائے ہوئے پھلدار پودوں کی نہ صرف دیکھ بھال کیا کرتے تھے بلکہ ان میں اضافہ بھی کرتے رہتے تھے۔ میں جب بھی ان درختوں کو دیکھتا مجھے رشک آتا۔ چنانچہ اس شوق کو میں نے اس طرح پورا کیا کہ جب کسی ایسے سٹیشن پر پوسٹنگ ہوئی جس میں قیامِ پاکستان کے بعد کی تعمیر کی ہوئی عمارتیں الاٹ ہوئیں تو میں نے ان میں اپنا یہ شوق پورا کیا۔ 

خضدار اور کوئٹہ انہی سٹیشنوں میں شامل تھے۔ مجھے ان مکانات کو دس بارہ برس بعد دوبارہ دیکھنے کا اتفاق بھی ہوا۔ اگرچہ میرا قیام وہاں دو، تین روز ہی کا ہوتا تھا لیکن سرکاری مصروفیات کے بعد میرا پہلا کام سابق مکانوں کی وزٹ ہوتی تھی اور میں ان کو ترو تازہ پھلوں سے لدا پھندا دیکھ دیکھ کر بہت خوش ہوا کرتاتھا۔ اس قسم کی خوشی اور مسرت کو کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔ یہ سارے پھل بازاروں میں بھی بکثرت موجود تھے لیکن نجانے ان کو درختوں کی شاخوں سے لٹکتا دیکھ کر مجھ پر ایک سرخوشی اور وجد کی سی کیفیت کیوں طاری ہو جایا کرتی تھی!۔۔۔ جناب عبدالستار ایدھی بھی ایک ایسا ہی باغ پاکستان میں لگا گئے ہیں۔ میں نے سطورِ بالا میں اپنی مثال اس لئے پیش نہیں کی کہ اس میں کسی خود ستائی یا نمائش کا کوئی ذکر کروں۔۔۔ ہرگز نہیں۔

میں تو قارئین کو بتانا چاہتا ہوں کہ جو کارِخیر ایک انسان دوسرے انسان کے لئے کرتا ہے اور اس میں خود غرضی کا کوئی پہلو نہیں ہوتا تو اس سے نہ صرف تمام نسلِ انسانی کی بہبود کا سامان ہوتا ہے بلکہ خود صاحبِ خیر کو بھی ایک ایسی طمانیت ملتی ہے جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ میرے نزدیک ایدھی مرحوم کا یہ کارنامہ ایک معجزہ ہے اور ایک ایسا نادرِ روز گار کارنامہ ہے جس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ آپ نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی ایدھی سنٹر جیسے خیراتی ادارے دیکھے اور سنے ہوں گے۔ لیکن ان کے کرتا دھرتاؤں کی اپنی نجی زندگی کا وہ عالم نہیں جو اس مردِ درویش،جناب ایدھی کے نصیب میں ہوا۔ ان کی درویشی ایسی تھی کہ واقعی فغفوری اس کے سامنے سرنگوں رہتی تھی۔ ان کو پاکستان نے جس شان سے ان کے آخری سفر پر روانہ کیا، اس کی مثال بھی خال خال ملتی ہے۔ سول، ملٹری، اشرافیہ، بیورو کریسی، تاجر، آجر، مزدور، کاریگر، ساہو کار، غریب اور امیر سب کے سب ایک ہی لڑی میں پرو کر مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے تھے۔

ان کی زندگی ایثار و اخلاق کا مرقع تھی۔ ان کی ذات کا سب سے بڑا وصف یہ تھا کہ اس میں خود غرضی کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ وہ اور ان کے اہلِ خانہ ایثار کی اسی دولت سے مالا مال تھے۔ وہ اَن تھک تھے۔ انہوں نے ایسے اہل و عیال پروان چڑھائے اور ان کو اپنے رنگ میں رنگا کہ اس سلسلے کو آگے بڑھانے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ رہی۔ ان کا سارا گھرانہ خود نمائی سے کوسوں دور ہے۔ خدا کرے آئندہ بھی ایسا ہی رہے۔۔۔ ایدھی صاحب کی رسمی تعلیم بس واجبی سی تھی لیکن مجھے یہ جان کر سخت حیرانی ہوئی کہ انہوں نے ایک انٹرنیشنل لیول کے خیراتی ادارے کے نظم و نسق کو کس طرح اتنے طویل برسوں تک سنبھالے رکھا۔ ان کے دفتر میں ایڈمنسٹریشن کا کوئی الگ شعبہ یا ڈائریکٹوریٹ نہ تھا۔ لیکن پھر بھی کڑوڑوں کا کاروبار کس طرح چل رہا تھا؟ آمد و خرچ کا حساب کتاب ایم بی اے (ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن) حضرات پر مشتمل کون سی ٹیم کرتی تھی؟ اور مائیکرو اور میکرو لیول کے جملہ انتظامات کیسے انجام پاتے تھے؟

ایک دفعہ پھر 5 جولائی کی شب کی طرف لوٹنا چاہتا ہوں۔ مجھے یقین سا ہو چلا تھا کہ اب چاند آدھی رات کے وقت کہاں دکھائی دے گا۔ مولانا منیب الرحمن تھے کہ مائیکرو فونوں کی بٹالین سے ہٹنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ ویسے بھی وہ جب بولتے ہیں تو خدا جانے دو لفظوں کی ادائیگی کے درمیان 40,35 سیکنڈوں کا وقفہ کیوں دیتے ہیں۔۔۔۔ میں نے بچوں کو کہا کہ میں واک پر جا رہا ہوں، آپ لوگ صبح کو عید کی امید چھوڑ دیں۔

یہ عسکری ون کالونی ایک بڑی سی چار دیواری میں گھری ہوئی ہے اور اس کے اندر سڑکوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ میں باہر نکلا تو سڑک پر ایک گاڑی کھڑی تھی جس میں بچے اور خواتین سوار ہو رہی تھیں۔ معاً ایک بارہ چودہ برس کی بچی نے مجھے دیکھ کر کہا: ’’انکل مبارک ہو۔۔۔ چاند نظر آ گیا ہے۔۔۔ صبح عید ہے۔۔۔‘‘ میں دِل ہی دِل میں اس بچی کو دُعائیں دینے لگا۔ تقریباً 150 گز سامنے ایک گیٹ پر ایک گارڈ کانوں سے موبائل چپکائے بیٹھا تھا۔ مجھے دیکھ کر اُٹھا اور خوشی سے مغلوب آواز میں بولا: ’’سر صبح عید ہو گئی ہے۔۔۔ مبارک ہو۔‘‘ پھر میری نصف گھنٹے کی واک کے دوران جو بھی راہگیر ملا، اُس نے السلام علیکم کے بعد عید مبارک ضرور دی۔ ان میں سے 90 فیصد حضرات میرے شناسا نہیں تھے۔

پھر گھر آیا تو انتظامی کمیٹی کی طرف سے ایک مراسلہ پڑا تھا جس میں لکھا تھا کہ کل صبح پونے سات بجے نماز عید ہو گی اور مسجد کے اندر ہو گی۔ میں اگلے روز ساڑھے چھ بجے جب مسجد میں داخل ہوا تو بارش کا پہلا چھینٹا پڑا اور پھر جل تھل ہونے لگے۔ مولوی صاحب عین 6 بج کر 45 منٹ پر خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے اور سات بجکر ایک منٹ پر نماز ختم کر دی۔۔۔ ہمیشہ سے ان کا یہی دستور ہے کہ وہ وقت کی پابندی کا از بس خیال رکھتے ہیں۔ یقیناًاس پابندئ اوقات میں کالونی کی انتظامیہ کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اس نے مسجد کی تزئین و آرائش بھی اس طرح کر رکھی ہے کہ یہ سادگی اور پُرکاری کا ایک ماڈل کہی جا سکتی ہے۔ میں جو بات قارئین کو بتلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ مسجد کے اندر اور باہر تل دھرنے کو جگہ نہ تھی (باہر کے نمازی بارش میں شرابور ہو رہے تھے) اندر اور باہر کے نمازیوں میں نو عمر نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ پاکستانی معاشرہ لاکھ کرپشن میں کمر کمر تک ڈوبا ہوا ہے۔ 

میڈیا روز لرزہ خیز جرائم کی داستانیں آن ایئرکرتا رہتا ہے، ٹاک شوز کا موضوع کرپشن سے شروع ہو کر کرپشن پر ہی ختم ہوتا ہے لیکن اسی معاشرے میں وہ قوم بھی پروان چڑھ رہی ہے جس کی بچیاں نہ جاننے والے بزرگوں کو سلام کرتی اور عید مبارک دیتی ہیں، جہاں کے ملازمین ہر آنے جانے والے کو السلام علیکم کہتے ہیں، جس کے افراد ایک دوسرے کو نہ جانتے ہوئے بھی سلام و دُعا کا ورد نہیں بھولتے اور جس کی مسجدیں نوجوانوں سے بھری رہتی ہیں۔ اسی معاشرے میں عبدالستار ایدھی بھی پیدا ہوتے اور 92 برس کی عمر تک انسانیت کی خدمت میں اپنا تن من دھن لگا دیتے ہیں اور اسی ’’کرپٹ معاشرے‘‘ میں درجنوں ایسے خیراتی ادارے اور بھی ہیں جو منی ایدھی سنٹر کہے جا سکتے ہیں اور جو بے لوث ہو کر سوسائٹی کے Have Nots کو جینے کا حوصلہ اور ساز و سامان عطا کرتے رہتے ہیں۔ آج ایک ایدھی ہمارے درمیان سے رخصت ضرور ہوا ہے لیکن کئی اور ایدھی راہ میں ہیں۔۔۔ یہ سب ایسے شجرِ سایہ دار ہیں جو آنے والی پاکستانی نسل کو سایہ اور پھل دونوں فراہم کرتے رہیں گے۔ ہمارے ان خیراتی گلستانوں اور باغوں کا یہ ورثہ برٹش دور کا ورثہ نہیں، اسلام کا ورثہ ہے!

لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان

Post a Comment

0 Comments