مَیں اپنی زندگی میں عبد الستار ایدھی سے کبھی نہیں ملا، لیکن محسوس یہی ہوتا رہا کہ انہیں ایک مدت سے جانتا ہوں ۔ ملاقات کا یہ حوالہ انگریز مصنف جان گالزوردی کا ایک ایکٹ کا کھیل ہے جو ہمارے بی اے کے نصاب میں شامل تھا ۔ ’ لٹل مین‘ یا چھوٹے آدمی کے نام سے ایک ایسے شخص کی کہانی جس کی شکل و شباہت ، زبان اور لسانی شناخت ہمارے ایدھی صاحب سے بظاہر میل نہیں کھاتی۔ پھر بھی دوسری جنگ عظیم سے پہلے کے یورپ میں آسٹریا کے ریلوے پلیٹ فارم پر امریکی ، برطانوی ، جرمن اور ڈچ مسافروں کے درمیان گھرا ہوا یہ کردار ایک بے ڈھنگی دنیا میں ڈھنگ کا ایک ہی آدمی دکھائی دیتا ہے۔ نہ نسلی عصبیت ، نہ طبقاتی امتیاز ، نہ تہذیب و تمدن کے وہ نمائشی اوصاف جو اسے باقی مخلوقِ خدا سے جدا کرتے ہوں ۔ ڈرامہ تو آپ کو خود ہی پڑھنا پڑے گا ، لیکن دل چاہتا ہے کہ پردہ اٹھا ؤں تو سہی۔
یہ پلیٹ فارم کوئی عام منظر نہیں بلکہ ریلوے اسٹیشن پر واقع ایک اوپن ریستوران ہے جہاں الگ الگ میزوں کے گرد بیٹھے ہوئے لوگ چائے پانی سے دل بہلا رہے ہیں ۔ متوسط طبقہ کے ایک کم گو بر طانوی جوڑے نے کافی کا آرڈر دے رکھا ہے اور اجنبی لوگوں سے آنکھیں چار نہ کرنے کی خاطر اخبار کے جہازی صفحات کو اپنے لئے ڈھال بنا لیا ہے ۔ ادھیڑ عمر کا جرمن مسافر اپنی خوش لباسی اور آواز کے تیکھے پن سے فوجی کرنیل لگتا ہے۔ امریکی سیاح کی گردن کے گرد کیمرا اور دور بین لٹک رہی ہے اور طبیعت ایسی پرجوش کہ ہر کسی سے گپ لڑانے کے لئے بے چین ۔ جیسے ڈپٹی نذیر احمد کی کتابوں میں نصوح ، سلیم ، اکبری ، اصغری ، ظاہر دار اور زبردست بیگ کے نام ان کرداروں کی خصوصیات کو ظاہر کرتے ہیں ، اسی طرح ان مسافروں کی شخصیات کو آپ ان کی الگ الگ قومیت کا اشارہ سمجھ لیں ۔
کہانی کا پہلا موڑ ہمارے مرکزی کردار’ لٹل مین‘ کی پلیٹ فارم پہ انٹری ہے جب ریستوران کے ویٹر سے بات کرتے ہوئے اس کا شائستہ لہجہ لوگوں کو حیرت زدہ کر دیتا ہے ۔ امریکی پوچھتا ہے ’آپ نے بیرے کو مسٹر ہیڈ ویٹر کہہ کر کیوں بلایا ؟‘ تائید میں جرمن مسافر کا کہنا ہے کہ ان سے عزت کے ساتھ بات کرو تو خوامخواہ فری ہونے لگتے ہیں ۔ دیکھتے ہی دیکھتے دونوں کا مکالمہ ریستوران کی ناقص سروس کی شکایت سے شروع ہو کر روسی اور جرمن ادب ، امریکی سیاسی افکار اور پھر عظیم مقاصد کے لئے جذبہ ء قربانی سے جڑے ہوئے سوالات تک جا پہنچتا ہے ۔ ’اس غریب عورت اور اس کے چھوٹے بچے کو دیکھئے ، اگر بچہ گر جائے اور ریلوے انجن اس پر چڑھ دوڑے تو ہم اسے بچانے کے لئے کیا اپنی جانوں پہ کھیل نہیں جائیں گے ۔ ضرور کھیلیں گے ‘ ۔ یہ ہیں امریکی کے فخریہ الفاظ ۔
اسی دوران باتوں باتوں میں ’ لٹل مین‘ کی قومیتی شناخت کا سوال بھی اٹھتا ہے ، مگر تقسیم در تقسیم ہوتے ہوئے آج کے پاکستانی معاشرے کی طرح قومیتی گروہ بندیوں میں ایدھی صاحب کے ہمزاد ’ لٹل مین‘ کی نسلی وابستگی منفرد نوعیت کی ہے ۔ ’والد کی طرف سے ہاف انگلش اور ہاف امیریکن ، ماں کی طرف سے آدھا جرمن اور آدھا ڈچ ہوں ۔ ممکن ہے کچھ نا سمجھ لوگوں کے لئے اس جواب میں ذہنی دل لگی کا سامان ہو ، مگر انسان کی پہچان آزمائش کی گھڑی میں ہوتی ہے ، اور آزمائش کی گھڑی فوراً ہی آ گئی۔یہ اعلان ہوتے ہی کہ ٹرین دوسرے پلیٹ فارم سے روانہ ہورہی ہے ، سراسیمگی کا وہ منظر دیدنی ہے جب مسافر سامان اٹھا کر پیچھے دیکھے بغیر ریلوے پل کی سیڑھیوں کی طرف بھاگ نکلتے ہیں ۔ نہیں بھاگی تو وہی غریب عورت جس کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اپنے دونوں بیگ سنبھالے یا چھوٹے بچے کو۔
افراتفری کے اس عالم میں ’ لٹل مین‘ بچے کو تیزی سے گود میں اُٹھا کر ٹرین تو پکڑ لیتا ہے ، مگر کمپارٹمنٹ کے اندر پہنچ کر احساس ہوتا ہے کہ ماں گاڑی میں سوار نہیں ہو سکی۔یہاں دیکھنے کی چیز باقی مسافروں کا رد عمل ہے، جس میں ہمدردی کم ہے اور تضحیک کا پہلو زیادہ نمایاں ۔ خاص طور پہ جب کمبل کے چھوڑے ہوئے وہ نشانات دکھائی دئے جو بچے کی رال ٹپکنے سے اس کے جسم پہ جم سے گئے ہیں ۔ یہ سوچ کر کہ یہ کالے اور سرخ نشان کسی متعدی مرض کی علامت ہیں ، سب سے پہلے تو امریکی آدمی سگار پینے کے بہانے ڈبہ سے کھسک جاتا ہے ۔ اس کے پیچھے پیچھے جرمن ۔ برٹش جوڑے میں سے شوہر کے مقابلے میں بیوی کا ردعمل ذرا سا سرپرستانہ ہے ۔ بس ایک ’ لٹل مین‘ ہے کہ جس پہ بیماری کی اس جھوٹی سچی علامت کا کوئی اثر نہیں۔بچے کو بہلا رہا ہے، لوریاں دے رہا ہے۔
اب ہم نے ڈرامے کے مرکزی کردار کو عبدالستار ایدھی سے جا ملایا ، مگر نتیجہ کیا نکلا ۔ نتیجہ بہت پاکستانی قسم کا نکلا کہ اگلے اسٹیشن پر اترتے ہی ہمارے ہیرو کو پولیس نے یہ کہہ کر حراست میں لے لیا کہ ہمیں بچے کے اغوا ہونے کی اطلاع مل چکی ہے ۔ خیر بعد کی ایک اور ٹرین کے ذریعہ ماں بھی آ پہنچی ، لیکن ڈرامائی منظر تو اس سے پہلے کا تھا جب ریلوے اور پولیس اہلکار ملزم کو گرفتار بھی کرنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ڈر رہے ہیں کہ اگر بچے کو ہاتھ لگا لیا تو کہیں خود کو بھی چھوت کی بیماری نہ لگ جائے ۔ یہ ہوتی ہیں با اختیار مگر نااہل لوگوں کی مجبوریاں ۔ بالکل اسی طرح جیسے انتظامی طور پر تنگ کئے جانے پر ایک بار ایدھی صاحب نے کہا تھا کہ ٹھیک ہے ، میں ہندوستان چلا جاتا ہوں ، اور افسر لوگ بھونچکے رہ گئے تھے کہ یہ چلا گیا تو زخمیوں کو کون سنبھالے گا اور لاوارثوں کو کون دفنائے گا۔
جمعہ کی شب عبدالستار ایدھی کے انتقال کا باضابطہ اعلان ہوتے ہی ساری قوم کی جو حالت ہوئی ، اپنی زندگی میں اس سے پہلے ایسی مثال مجھے یاد نہیں پڑتی ۔ ’پاکستان یتیم ہو گیا ‘ ، ’اس صدی کا سب سے بڑا انسان چل بسا ‘ ، ’حقیقی انسانی ہمدردی رکھنے والی شخصیت تھے‘ ۔ یہ تو محض الفاظ ہیں ، ان کے پیچھے صدمہ کی جو کیفیت ہے ، اس کی اندوہناکی محسوس نہ کرنے والا ہمارے درمیان شائد ہی کوئی ہو ۔ اسباب دو ہیں ۔ ایک ہے اقتدار ، دولت اور شہرت سے بے نیازی ۔ دوسرے ، ہر لحظہ جڑتی ادھڑتی اقدار والے ہمارے معاشرے میں غیر متنازعہ رہنا ۔ پچھلے چھتیس گھنٹوں میں چکرائے ہوئے دماغ کے ساتھ ایدھی مرحوم کی زندگی پہ جتنا غور کیا ہے ، اتنی ہی شدت سے یہ بات سمجھ میں آئی ہے کہ غیر متازعہ ہونے کی صفت درحقیقت بے غرضی کے رویہ ہی کی عطا ہے ۔ اس کے بغیر کچھ بھی نہیں۔
مَیں نے سخت بات کہہ دی ہے ، مگر بات سچی ہے ۔ اس لئے سچی ہے کہ مالی اختیار ہی نہیں بلکہ علم کی شہرت ، نیک نامی اور تقوے کی نمائش ، یہ ایسے نشے ہیں کہ قیامِ پاکستان کے وقت ساتویں جماعت کی ایک طالبہ کے بقول ’بڑے بڑے صاحب بصیرت یہاں پہنچ کر بھٹک گئے ہیں‘ ۔ عظمت کے سفر میں گمراہی سے بچنے کی سبیل کیا محض قدرت کا انعام ہوا کرتی ہے یا انسان کی اپنی مسلسل کاوش کا ماحصل ؟ خدا معلوم ، مجھ میں سوشل میڈیا پر بڑوں چھوٹوں کی اندھا دھند ڈانٹ ڈپٹ سہنے کا حوصلہ ہے بھی یا نہیں ۔ اس لئے جبر و قدر کے الجھے ہوئے مسئلہ پر کوئی رائے نہیں دے سکتا ۔ معاشرہ پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔ میرے فتوے سے ایک نئی ماردھاڑ شروع ہو جانے کا خطرہ ہے ، حالانکہ ذرا ہی اوپر میں نے ایدھی صاحب کے غیر متنازعہ ہونے کی دل و جان سے تعریف کی تھی۔
سچ پوچھیں تو ایدھی صاحب علاقائی ، طبقاتی اور فرقہ وارانہ سوچوں سے بالاتر ہو کر ایک ایسے راستے کی نشاندہی کر گئے ہیں جس پر مشکلات کے باوجود چلا جا سکتا ہے ۔ یہ ضروری نہیں کہ کام کرنے کے لئے وہی شعبہ چنا جائے جس کا انتخاب ایدھی مرحوم نے کیا ۔ انسانی زندگی بہت وسیع ہے اور پاکستان جیسے ملک میں طرح طرح گنجائشیں اِس لئے زیادہ ہیں کہ ابھی بہت سا بنیادی کام ہوا ہی نہیں ۔ اگر آپ اپنی پسند کے مطابق کوئی بھی چھوٹا سا شعبہ لے لیں اور ایک تسلسل کے ساتھ اُس میں جُتے رہیں تو یہ اطمینان حاصل رہے گا کہ آپ اپنے رنگ میں عبد الستار ایدھی کے عظیم مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ رہا کامیابی کا امکان تو جناب ، جان گالزوردی کے ڈرامہ کا آخری منظر یہ ہے کہ ریلوے اور پولیس اہلکار ’ لٹل مین‘ سے معافی مانگ رہے ہیں اور ’ لٹل مین‘ کے پیچھے قوس قزح کے رنگوں کا ہالہ ہے۔
شاہد ملک
0 Comments