دنیا سے جاتے ہوئے خادمِ انسانیت عبدالستار ایدھی اپنی آنکھیں بھی عطیہ کر
گئے۔ میں نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ یہ آنکھیں کسی دولت کی ہوس میں مبتلا صاحب اختیار کو لگنی چاہئیں تاکہ وہ ان آنکھوں سے دیکھ سکے کہ اصل دولت وہ نہیں جو بنکوں میں کاغذ کی صورت رکھی جاتی ہے، بلکہ اصل دولت انسانیت کی خدمت ہے، جو لوگوں کے دل جیتتی ہے اور ان کے دلوں پر حکمرانی کا موقع فراہم کرتی ہے۔ ایدھی صاحب یہ دولت سمیٹ کر دنیا سے گئے ہیں، ان کی دنیا بھی سنور گئی ہے اور آخرت بھی انہیں ایک عظیم مقام سے نوازا جائے گا، کیونکہ انہوں نے اپنے رب کے اس فرمان پر عمل کیا کہ میری مخلوق کی خدمت کرو میں تم سے راضی ہو جاؤں گا۔ عبدالستار ایدھی جس شان سے رخصت ہوئے، قائداعظمؒ کے بعد کسی ا ور شخصیت کو یہ سعادت نہیں ملی۔ عوام اور اہل اقتدار نے جس طرح اپنے اس عظیم سماجی رہنما کو خراج عقیدت پیش کیا، اس کی مثال نہیں ملتی، ایسا صرف اس لئے ہوا کہ عبدالستار ایدھی نے اپنے من کو مار کے انسانیت کو سکھ پہنچانے کا جو راستہ اختیار کیا، اس پر تا زندگی ثابت قدم رہے۔
ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ انسان زندگی میں خود کو غیر متنازعہ بنا لے۔ وگرنہ کوئی فرشتہ بھی بن جائے تو اسے دو چار شیطان سمجھنے والے نکل ہی آتے ہیں۔ سیاست اور سماجی میدان میں کوئی ایسا دوسرا دکھائی نہیں دیتا جسے ایسی منزلت حاصل ہوئی ہو، جیسی عبدالستار ایدھی کو حاصل ہوئی۔ پاکستان بھر میں ان کا کوئی مخالف نہیں تھا، نہ ہی کسی نے ان پر کوئی الزام لگایا، جب انہوں نے ایک روز بڑی معصومیت سے بتایا کہ ایک عورت انہیں دھوکہ دے کر پانچ کروڑ روپے لے گئی ہے تب بھی کسی نے شک نہیں کیا کہ ایدھی صاحب جھوٹ بول رہے ہیں، بلکہ کئی لوگوں نے اس نقصان کو پورا کرنے کی خواہش ظاہر کی اور بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض عبدالستار ایدھی صاحب کو امداد لینے پر آمادہ کرنے میں کامیاب رہے آخر کیا وجہ تھی کہ ایدھی صاحب ایک غیر متنازعہ شخص بن گئے؟ میں سمجھتا ہوں ان کی زندگی چونکہ کھلی کتاب تھی، ایک چھوٹے سے گھر میں سادہ کپڑوں اور دو وقت کی روکھی سوکھی روٹی کھانے والے شخص کو دنیا جانتی تھی، جو شہرت، دولت، اور اقتدار سے بے نیاز تھا، دوسری طرف اس کی فاؤنڈیشن ایک ایسا کام کر رہی تھی جس کی دنیا میں بہت کم مثال ملتی ہے، اس لئے ایدھی صاحب ایک غیر متنازعہ مصلح اور سماجی رہنما بن گئے۔
ان کے احترام میں بڑے بڑے لوگوں کی زبانیں خاموش ہو جاتیں وہ سچ بولتے تھے اور ان کے سچ پر اعتبار بھی کیا جاتا تھا۔ وہ صرف مردے ہی نہیں دفناتے تھے بلکہ زندوں کو بھی زندہ رہنے کا حوصلہ بخشتے تھے۔ ایک بار انہوں نے بڑے دکھ کے ساتھ کہا تھا کہ ایدھی سنٹرز میں روزانہ بیسیوں ایسی خواتین اپنے بچوں کے ساتھ پناہ کے لئے آتی ہیں، جنہیں ان کے شوہر معمولی سی بات پر گھر سے نکال دیتے ہیں۔ انہیں یہ تک خیال نہیں آتا تھا کہ جو ان کی خدمت کرتی رہی ہے، اس کی صرف ایک غلطی پر کیا ایسی سزا دینی جائز ہے؟ ایسی بات ایک مسیحا ہی سوچ سکتا ہے، وگرنہ یہاں تو ایسا مذہبی طبقہ بھی موجود ہے جو عورت پر تشدد کو جائز قرار دینے کے لئے اسلام کو استعمال کرتا ہے۔
عبدالستار ایدھی ایک ایسی شخصیت تھے جو عالمی سطح پر پاکستان کا مہذب چہرہ سامنے لاتی تھی۔ ایک ایسے ملک میں جو کئی دہائیوں سے دہشت گردی، فرقہ بازی اور قتل و غارت گری کا شکار ہے، ایدھی صاحب دنیا کو یہ پیغام دیتے تھے کہ نہیں پاکستان کا اصل چہرہ یہ نہیں بلکہ اصل چہرہ دکھی انسانیت کی خدمت سے عبارت ہے ایدھی کی ایمبولینس جہاں پہنچتیں وہاں امن کا پیغام بھی پہنچ جاتا۔ ان کے احترام کا یہ عالم تھا کہ بڑی سے بڑی دہشت گردی، گروہی قتل و غارت گری، یا جنگ و قتال کے دوران بھی جب ایدھی کی ایمبولینس پہنچ جاتی تو کوئی اس کے راستے میں رکاوٹ نہ بنتا، کیونکہ سبھی جانتے تھے کہ ایدھی والے دوست یا دشمن نہیں دیکھتے بس دکھی انسان کی مدد کرتے ہیں پاکستان میں ایک سے بڑھ کر ایک امیر موجود ہے، مگر ان کے اندر وہ جذبہ نہیں جو ایدھی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے ودیعت کیا، وہ بڑے فخر سے یہ کہتے تھے کہ میں خوش نصیب ہوں کہ اللہ مجھ سے کام لے رہا ہے۔ ان کی دیکھا دیکھی بہت سے ادارے شہر شہر قریہ قریہ قائم ہو جانے چاہئے تھے۔ مگر ایسا نہیں ہو سکا، سرکاری سطح پر بھی یہ کوشش نہیں کی گئی کہ ایسے ادارے قائم کئے جائیں جو مصیبت کے وقت لوگوں کے کام آ سکیں، مثلاً پنجاب میں 1122 کی سروس موجود ہے، لیکن باقی صوبوں میں نہیں، جس کے باعث کسی نا گہانی آفت کے وقت شدید کمی محسوس ہوتی ہے۔
عبدالستار ایدھی نے شروع میں سیاست سے خوشہ چینی کی، مگر جلد ہی وہ اس کام سے باز آ گئے۔ بے سرو سامانی کی عالم میں انہوں نے جس کام کا آغاز کیا تھا، وہ آج دنیا کے سب سے منظم اور بڑے رفاحی ادارے کے طور پر موجودہے۔ انہوں نے ثابتک یا کہ نیتنیک ہو، ارادے پختہ ہوں اور ایمانداری زندگی کا اصول بن جائے تو ساری مشکلیں آسان ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی ثابت کیاکہ عوام کسی بھی ادارے کے سب سے بڑے محافظ ہوتے ہیں، حکومتی امداد سے ہمیشہ انکار کرنے والے عبدالستار ایدھی نے عوام کے سامنے جھولی پھیلائی تو انہوں نے نوٹوں کے انبار لگا دیئے۔
مجھے یقین ہے کہ ایدھی فاؤنڈیشن مستحکم بنیادوں پر قائم ہے۔ عبدالستار ایدھی نے جس طرح اسے ایک منظم ادارے میں ڈھال دیا ہے، یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ بلقیس ایدھی اور فیصل ایدھی اسے اسی جذبے سے آگے بڑھاتے رہیں گے۔ ایسے بڑے فلاحی ادارے کو قوم کی مکمل حمایت اور تعاون حاصل رہے گا۔ ایدھی دنیا سے رخصت ہو گئے مگر ان کا نام پاکستان کی تاریخ میں خدمت کے ایک عظیم حوالے کے طور پر ہمیشہ موجود رہے گا۔ رہی یہ بات کہ ایدھی صاحب کو نوبل انعام کیوں نہیں ملا، تو میرے نزدیک یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں اگر انہیں نوبل انعام مل جاتا تو یہ نوبل انعام کی قدر و منزلت کو بڑھانے کا باعث بنتا، ایدھی صاحب ان چیزوں سے بے نیاز تھے جن لوگوں کو نوبل انعام ملے ہیں، ان کے دنیا سے رخصت ہونے پر ان کے عزیز و اقارب کے سوا شاید ہی کسی کی آنکھیں نم ہوئی ہوں، لیکن عبدالستار ایدھی دنیا سے رخصت ہوئے ہیں تو کروڑوں آنکھیں اشکبار ہیں، یہی اصل انعام ہے، جو صرف خوش نصیبوں کو ملتا ہے۔
کاش پاکستان کی اشرافیہ دولت کے پیچھے دیوانہ وار دوڑنے کی بجائے انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنائے، اپنی تجوریاں بھرنے کے لئے پاکستان کے کروڑوں غریب عوام کو معاشی مسائل کی سولی پر نہ لٹکائے۔ اپنی پر آسائش زندگی کی قیمت دوسروں کے حقوق سلب کر کے نہ وصول کرے۔ عبدالستار ایدھی جیسی شخصیت کو اپنا آئیڈیل بنائے جو اپنی زندگی کا دائمی نقش چھوڑ گئے ہیں وہ اربوں کھربوں روپے کی دولت چھوڑ کر نہیں گئے۔ انہوں نے لوگوں کی وہ محبت جمع کی جو اربوں روپے سے بھی نہیں ملتی۔ آخر میں اس عظیم انسان کے نام ایک شعر۔
تجھ ایسا صاحب ثروت جہاں میں کوئی نہیں
ترے اثاثے میں انسانیت کے غم نکلے
نسیم شاہد
گئے۔ میں نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ یہ آنکھیں کسی دولت کی ہوس میں مبتلا صاحب اختیار کو لگنی چاہئیں تاکہ وہ ان آنکھوں سے دیکھ سکے کہ اصل دولت وہ نہیں جو بنکوں میں کاغذ کی صورت رکھی جاتی ہے، بلکہ اصل دولت انسانیت کی خدمت ہے، جو لوگوں کے دل جیتتی ہے اور ان کے دلوں پر حکمرانی کا موقع فراہم کرتی ہے۔ ایدھی صاحب یہ دولت سمیٹ کر دنیا سے گئے ہیں، ان کی دنیا بھی سنور گئی ہے اور آخرت بھی انہیں ایک عظیم مقام سے نوازا جائے گا، کیونکہ انہوں نے اپنے رب کے اس فرمان پر عمل کیا کہ میری مخلوق کی خدمت کرو میں تم سے راضی ہو جاؤں گا۔ عبدالستار ایدھی جس شان سے رخصت ہوئے، قائداعظمؒ کے بعد کسی ا ور شخصیت کو یہ سعادت نہیں ملی۔ عوام اور اہل اقتدار نے جس طرح اپنے اس عظیم سماجی رہنما کو خراج عقیدت پیش کیا، اس کی مثال نہیں ملتی، ایسا صرف اس لئے ہوا کہ عبدالستار ایدھی نے اپنے من کو مار کے انسانیت کو سکھ پہنچانے کا جو راستہ اختیار کیا، اس پر تا زندگی ثابت قدم رہے۔




0 Comments