جب سے عبدالستار ایدھی صاحب کی رحلت ہوئی ہے، یہ عجیب بحث چل نکلی ہے
کہ ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کو بھی کیا وہی لائف سٹائل نہیں اختیار کرنا چاہئے۔ جو ایدھی مرحوم کا تھا۔ وہی سادہ لباس، وہی سادہ خوراک وہی سادہ سا رہن سہن، ایک مصلح اور سماجی رہنما کی زندگی کو کیسے سیاست دانوں یا حکمرانوں کے ساتھ مماثلت دی جا سکتی ہے۔ نوازشریف لندن سے آنے کے بعد جاتی عمرہ اپنے گھر گئے اور والدہ صاحبہ سے ملے تو اس موقع کی تصویر کو بھی ماں بیٹے کے ملاپ سے ہٹ کر اس تناظر میں دیکھا گیا کہ وہ جس گھر میں ملے وہ کتنا عالیشان ہے، اس کی دیواروں پر کتنی مہنگی پینٹنگز لگی ہوئی ہیں، وہ کتنا کھلا ہے، فرش پر کون سا قیمتی ماربل یا ٹائل لگی ہوئی ہے، وغیرہ وغیرہ یہ ہم کس طرف کو چل پڑے ہیں اور اس سے ہمیں کیا حاصل ہو سکتا ہے؟ کہیں عبدالستار ایدھی کو ایمبولینس میں بٹھایا دکھا کر عمران خان کو ہیلی کاپٹر میں سفر کرتا دکھایا گیا ہے اور موازنہ یہ کیا گیا ہے کہ اصل خدمت گزار کون ہے؟ جب سے اس قوم کے ہاتھ سوشل میڈیا کا اُسترا آیا ہے یہ اپنا ہی چہرہ لہولہان کئے جا رہی ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں، نہ کوئی سوچتا ہے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور نہ دیکھتا ہے کہ اس کے منفی اثرات کیا ہوں گے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ عبدالستار ایدھی نے ایک سادہ زندگی گزاری۔ وہ بوریا نشیں رہے اور انہوں نے زندگی کی آسائشوں کو اپنی کمزوری نہیں بنایا بلکہ انہیں بانٹنے پر توجہ دی۔ وہ اپنی ذات پر خرچ کرنا اسراف سمجھتے تھے۔ اس لئے ان کی زندگی میں کوئی کمپلیکس نہیں تھا۔ لیکن اب اس طرزِ زندگی کو ہم اپنے سیاستدانوں اور حکمرانوں کے لئے آئیڈیل بنا لیں تو یہ خلاف حقائق خواہش ہو گی۔ دنیا بھر میں کہیں ایسا نہیں ہے کہ فلاحی کام کرنے والوں کو حکمران طبقے سے ملایا جاتا ہو، دونوں کا اپنا علیحدہ علیحدہ کام ہے، مدر ٹریسا بھارت میں کام کر رہی تھیں تو حکمران طبقے ان کی پیروی نہیں کرتے تھے، حکمرانوں سے جو چیز درکار ہوتی ہے وہ خیرات، صدقات کے زمرے میں نہیں آتی۔ انہیں قوم اقتدار دیتی ہے قوم کو اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا کہ وہ کیا کھاتے ہیں، کیسے رہتے ہیں، ان کے گھروں میں کیا کچھ ہے، کپڑے کون سے پہنتے ہیں وغیرہ وغیرہ، قوم تو صرف یہ چاہتی ہے کہ انہیں جو منصب سونپا گیا ہے اس کے تقاضے وہ دیانتداری کے ساتھ نبھائیں۔
ملک میں ایک ایسا نظام نافذ کریں جو خلقِ خدا کو ایک آزاد، خود مختار اور عزت نفس سے معمور زندگی گزارنے کا موقع دے۔ یہ بڑی احمقانہ بات ہو گی کہ ایدھی نے اگر ہوائی جہاز میں سفر نہیں کیا تو ہمارے رہنماؤں کو بھی نہیں کرنا چاہئے۔ ایدھی نے اگر روکھی سوکھی کھائی تو ہمارے لیڈر بھی پیٹ پر پتھر باندھ کر پھریں، اس سب کچھ سے عوام کو کیا فائدہ پہنچے گا؟ ماؤ زے تنگ نے جب چین کو بدلا تو وہ کوئی سڑک پر آکر نہیں بیٹھ گئے تھے، کمال اتاترک نے ترکی کی کایا کلپ کی تو ایسا نہیں تھا کہ انہوں نے مرن برت رکھا ہوا تھا۔ ملائشیا کے جدید معمار مہاتیر محمد ایک خوش پوشاک اور جدید زندگی کی سہولتوں سے استفادہ کرنے والے شخص تھے، مگر انہوں نے ملائشیا کو بدلنے کے لئے عملی اقدامات اٹھانے، جرات مندانہ فیصلے کئے، آج ملائشیا ایشیاء کا ٹائیگر بننے جا رہا ہے۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں حقیقت پسندی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم اپنے حکمرانوں کو بوریا نشین بنا دیں تو وہ اچھے حکمران بن جائیں گے۔ حکمرانی تو ایک شوق ہے، لگن ہے، وہ اگر کسی میں ہے تو چکا چوند ایوانوں میں بیٹھ کر بھی وہ اپنے ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ بھٹو کی مثال ہی لے لیں۔ ان کے پاس کیا کمی تھی، وہ جدید دور کے انسان تھے، ہر آسائش سے بہرہ مند خود بھی اعلیٰ لباس پہنتے اور رہن سہن بھی شاہانہ تھا مگر ان کی سوچ عوامی تھی، انہوں نے عوام کے لئے جان لڑا دی ان میں شعور پیدا کیا اور آج تک ان کا نقش عوام کے دلوں پر موجود ہے۔
دوسری طرف ہمارے حکمران طبقوں کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ لوگ ان کے رہن سہن کی طرف تب انگلی اٹھاتے ہیں جب وہ خود کو اقتدار کی چکا چوند کے حصار میں بند کر لیتے ہیں۔ تمیز بندہ و آقا کو تاریخ کے کسی دور میں بھی انسانوں نے پسند نہیں کیا تاریخ عالم کا سب سے فلاحی دور حضور اکرمؐ اور خلفائے راشدین کا زمانہ تھا اور اس کیو جہ یہ تھی کہ انہوں نے حاکم و مخلوق کے درمیان فاصلوں کو ختم کر دیا تھا، خاتمہ صرف لباس یا رہن سہن کے تفاوت کو ختم کر کے نہیں کیا گیا تھا، بلکہ اس کا سب سے بنیادی پہلو یہ تھا کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں کسی حاکم کو بھی اس معاملے میں کسی عام آدمی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ لوگ کبھی برابری کا معاشی مرتبہ نہیں مانگتے بلکہ وہ صرف بنیادی انسانی حقوق کے طلب گار ہوتے ہیں اور بنیادی حقوق صرف قانونی مساوات سے ہی ممکن بنائے جا سکتے ہیں۔
اگر کوئی غور کرے تو وہ بڑی آسانی سے اس نکتے پر پہنچ سکتا ہے کہ پاکستان میں ہماری خرابی قانون کی عدم مساوات سے پیدا ہوئی ہے، کوئی پیسے والا ہے تو اسے حق ہے کہ وہ بڑا گھر بنائے، اچھی گاڑی لے، مہنگے ملبوسات خریدے، سونے چاندی سے اپنے درو دیوار نقش کرے، مگر اسے یہ حق کسی صورت نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اپنی دولت کے بل بوتے پر قانون کو خرید لے۔ اپنے سے معاشی طور پر کمتر شخص کو غلام سمجھے، ریاستی طاقت سے اس کے بنیادی حقوق پر ضرب لگائے ، بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہی کچھ ہو رہا ہے، وہ طاقت ور جو دولت والا ہے، وہ ریاستی اداروں کو خرید لیتا ہے، ان کے ذریعے عام آدمی پر ظلم ڈھاتا ہے، ان کے حقوق پامال کرتا ہے اور قانون کسی بے دست و پا کی اس کے خلاف آواز نہیں سنتا، یہ ہے وہ نکتہ جس نے معاشرے کو امیر غریب سے زیادہ ظالم و مظلوم کے خانوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ یہی وہ پوائنٹ ہے جہاں سے طبقہ اشرافیہ کے خلاف عوام کے دلوں میں نفرت جنم لیتی ہے۔
عوام طبقہ اشرافیہ سے ایدھی بننے کا تقاضا کریں اور نہ ہی طبقہ اشرافیہ کے افراد ایدھی بننے کی کوشش کریں (کیونکہ وہ اس کوشش میں ویسے بھی کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے) بس دونوں اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس ملک میں آئین و قانون نے ہر پاکستانی کو جو حقوق دیئے ہیں، وہ سب کو مل جائیں، ایدھی صاحب جو کام زندگی بھر کرتے رہے، وہ بھی انسانی حقوق کو یقینی بنانے کا ہی ایک عمل تھا، کیونکہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شہری کو خوراک دے،رہنے کو چھت فراہم کرے اور روزگار کو یقینی بنائے۔ جب ریاست یہ کام نہیں کرتی تو ایدھی جیسے خادم انسانیت کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔
ایدھی جب تک دنیا میں تھے کوئی نہیں جانتا تھا کہ انسانی خدمت کرتے کرتے عوام کے دلوں میں کس قدر دور تک محبت کے چراغ جل چکے ہیں، ان کی موت پر جس طرح ہر آنکھ روئی ہے، اس نے کم از کم اس بات کو تو ثابت کر دیا ہے کہ پاکستانی قوم اندھی نہیں وہ دیکھتی ہے کہ کون اس کے لئے دن رات ایک کر رہا ہے اور کس نے صرف دولت بنانے میں دن رات ایک کر رکھے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں پاکستان کے حکمران طبقوں کو ایدھی صاحب سے عوام کی والہانہ عقیدت کے اسباب پر غور کرنا چاہئے اور اپنے طرز فکر میں تبدیلی لا کر اس طرزِ حکمرانی کو دفن کر دینا چاہئے، جو ان کے لئے عوام کے دلوں میں نفرت تو پیدا کرتی ہے، ہمت نہیں، میں نے عبدالستار ایدھی کی طرف سے آنکھیں عطیہ کرنے پر ایک شعر کہا، اس کا پیغام بھی یہی ہے۔
ان میں روشن ہیں زندگی کے چراغ
میری آنکھیں سنبھال کر رکھنا!
نسیم شاہد
کہ ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کو بھی کیا وہی لائف سٹائل نہیں اختیار کرنا چاہئے۔ جو ایدھی مرحوم کا تھا۔ وہی سادہ لباس، وہی سادہ خوراک وہی سادہ سا رہن سہن، ایک مصلح اور سماجی رہنما کی زندگی کو کیسے سیاست دانوں یا حکمرانوں کے ساتھ مماثلت دی جا سکتی ہے۔ نوازشریف لندن سے آنے کے بعد جاتی عمرہ اپنے گھر گئے اور والدہ صاحبہ سے ملے تو اس موقع کی تصویر کو بھی ماں بیٹے کے ملاپ سے ہٹ کر اس تناظر میں دیکھا گیا کہ وہ جس گھر میں ملے وہ کتنا عالیشان ہے، اس کی دیواروں پر کتنی مہنگی پینٹنگز لگی ہوئی ہیں، وہ کتنا کھلا ہے، فرش پر کون سا قیمتی ماربل یا ٹائل لگی ہوئی ہے، وغیرہ وغیرہ یہ ہم کس طرف کو چل پڑے ہیں اور اس سے ہمیں کیا حاصل ہو سکتا ہے؟ کہیں عبدالستار ایدھی کو ایمبولینس میں بٹھایا دکھا کر عمران خان کو ہیلی کاپٹر میں سفر کرتا دکھایا گیا ہے اور موازنہ یہ کیا گیا ہے کہ اصل خدمت گزار کون ہے؟ جب سے اس قوم کے ہاتھ سوشل میڈیا کا اُسترا آیا ہے یہ اپنا ہی چہرہ لہولہان کئے جا رہی ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں، نہ کوئی سوچتا ہے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور نہ دیکھتا ہے کہ اس کے منفی اثرات کیا ہوں گے؟




0 Comments