عبدالستار ایدھی پر جتنا بھی لکھا جائے وہ کم ہے۔ مدر ٹریسا کے بعد وہ واحد
سماجی شخصیت ہیں جنہیں ملکی اعزاز کے ساتھ لحد میں اُتارا گیا۔ انہوں نے فرقے ، مذہب اور معاشرے کی دیگر تفریقوں سے بالا تر ہوکر عوام کی خدمت کو اصل پیشہ سمجھا ۔ انہوں نے لاشیں اُٹھاتے ہوئے یہ نہیں سوچا کہ یہ شیعہ ہے، سنی ہے، وہابی ہے، دیوبندی ہے، بریلوی ہے، حنفی ہے، مالکی ہے، شافعی ہے، جنبلی ہے، سلفی ہے، نقشبندی ہے، قادری ہے، سہروردی ہے ، قادیانی ہے، سکھ ہے، عیسائی ہے، بدھ مت ہے یا ’’کافر‘‘ ہے۔ یعنی ظلم کا شکار ہونے والوں کی بے گوروکفن لاوارث لاشوں کے غسل اور کفن دفن کا خودساختہ ٹھیکیدار اب اس دُنیا میں نہیں رہا ۔
لیکن یہ ایک تکلیف دہ حقیقت ہے کہ جو کام ایدھی نے کیا ، اُسے ہر سطح پر حکمرانوں نے نظر انداز کیا۔ ایدھی صاحب نے پاکستان کی سب سے بڑی غیرریاستی فلاحی سلطنت کی بنیاد رکھی اور اپنی پوری زندگی اس نیک کاز کیلئے وقف کردی۔ انہوں نے اپنے آپ کو کراچی تک محدود نہیں رکھا بلکہ پاکستان کے کونے کونے میں ایدھی سنٹر قائم کر کے دردمندوں کے دُکھ کا مداوا کرنے کا بیڑا اُٹھایا۔ انکی خدمات کے پیشِ نظر ان کا نام متعدد بار نوبل ایوارڈ کیلئے زیرغور آیا مگر یہ انعام چونکہ سیاسی بنیاد پر دیا جاتا ہے اور ایدھی صاحب کیلئے اس کی سیاسی لابنگ کا خاطرخواہ انتظام نہ تھا، اس لیے انہیں اس کا مستحق نہیں سمجھا گیا، اسکے برعکس 16سالہ ملالہ یوسف زئی کو یہ انعام دیدیا گیا کیونکہ اس کا نام امریکا نے جاری کیا تھا، وہی امریکا جسے یہ اعتراض تھا کہ ایدھی صاحب امریکا آتے ہیں تو وہاں پاکستانی ان کیلئے دیدہ ودل کیوں فرشِ راہ کرتے ہیں اور انکے مشن میں کیوں انہیں اتنا چندہ دیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایدھی صاحب جیسا انسان نوبل پرائز سے بالکل بے نیاز تھا۔
پاکستان کے سیاسی اُفق پر ایک بھی لیڈر یا حکمران عبدالستار ایدھی کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ آپکی بانی ٔ پاکستان سے محبت کا یہ عالم تھا کہ مرتے دم تک انہوں نے جناح کیپ کو اپنا طرۂ امتیاز بنائے رکھا۔ اس وقت ہمارے کتنے قومی لیڈر ہیں جو جناح کیپ پہنتے ہیں۔ ایدھی صاحب نے آج تک کبھی قومی وقار کا سودا نہیں کیا۔ بھارتی شہری گیتا کو اسکے گھر تک پہنچانے میں انکے کردار پر خوش ہو کر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایدھی فائونڈیشن کیلئے ایک کروڑ روپے عطیہ دینے کا اعلان کیا مگر انکی غیرت نے گوارہ نہیں کیا اور انہوں نے یہ عطیہ لینے سے انکار کردیا، یہ وہی نریندر مودی ہے جو ہمارے حکمرانوں کے سالگرہ کا کیک کاٹنے اور انکے بچوں کی شادیوں میں شرکت کیلئے تو پاکستان آجاتا ہے مگر جب ملکی سطح پر امن یا مسئلہ کشمیر کی بات ہوتی ہے تو پاکستان کیخلاف توہین آمیز اور نفرت انگیز طرزِعمل کا کھلم کھلا مظاہرہ کرتا ہے۔
ہمارے حکمرانوں اور ایدھی صاحب میں یہی فرق ہے کہ ان کا جینا مرنا پاکستان میں تھا جبکہ سیاستدان جتنا بڑا ہوتا ہے اس کا اتنا ہی سرمایہ اور جائیداد ملک سے باہر ہوتی ہے۔ عبدالستار ایدھی کا ٹریک ریکارڈ گواہ ہے کہ یہ اگر سیاست میں ہوتے تو شاید آج پاکستان کے حالات کچھ اور ہوتے مگر سیاست میں چونکہ سارا کھیل ہی پیسے کا ہے شاید اسی لیے وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ ایک دفعہ انہوں نے سیاست میں آنے کا اعلان کیا تھا مگر جلد ہی انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ اپنی فلاح وبہبود کی دُنیا میں واپس آگئے۔ جب کراچی میں ایدھی فائونڈیشن سے بھتے کا مطالبہ کیا گیا اور انکے ورکرز کو ہراساں کیا جانے لگا تو ایدھی صاحب اتنے دلبرداشتہ ہوئے کہ انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو وہ پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہو جائینگے تب کہیں جا کر انکی خلاصی ہوئی۔ ایدھی صاحب کو پاکستانی حکمرانوں سے نہیں بلکہ پاکستانی عوام سے ہمیشہ اُمیدیں رہیں، وہ کہتے تھے کہ پاکستان کی مڈل کلاس سب سے زیادہ عطیات دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی سب سے زیادہ چیریٹی دینے والی قوم ہیں۔
ان کا خیال تھا کہ یہ مڈل کلاس اگر سیاست میں تبدیلیوں اور اصلاحِ احوال کیلئے اپنا کردار ادا کرے تو اس ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے لیکن افسوس کہ انکی یہ تمنا پوری نہیں ہوسکی اور ہماری مڈل کلاس ہر انتخابات کے موقع پر پیسے، مذہب، برادری اور دہشت اور خوف جیسے عناصر سے متاثر ہو کر ووٹ دیتی رہی۔
میرے خیال میں جو کام ایدھی صاحب کر گئے ہیں کیا وہ کام ریاست کے کرنیوالے نہیں تھے۔ کیوں ریاست کو یاد نہیں رہا کسی کو چھت فراہم کرنا ، کسی کو سہارا دینا یا کسی کی داد رسی کرنا اور میرے نزدیک ریاست کی ناکامی کی اصل وجہ ہی ناانصافی ہے اور چیک اینڈ بیلنس کا نا ہونا ہے۔ ہم چھوٹے چور کو تو پکڑتے ہیں مگر بڑے چوروں میں ایک دوسرے سے آگے نکل کر زندگی گزارنے کی دھن سوار ہے۔ اگر ایک شاہی چشم و چراغ کے پاس 4 گاڑیاں ہیں تو دوسرے کے پاس 6 ہوں گی۔ بڑے بڑے فارم ہائوسز‘ بڑے بڑے محل اور اربوں ڈالرز کے بینک بیلنس کیساتھ شاہانہ زندگی گزارتے یہ حکمران نا جانے کس چیز کا بدلہ عوام سے لے رہے ہیں اور یہ بھی ریاست ہی کی ناکامی ہے کہ تمام ترکوششوں کے باوجود ’’پرائز بانڈ‘‘ حکمرانوں کا راستہ نہیں روک سکی اگر یہاں نظام بہتر ہوتا تو قیادت بھی فلٹر ہو کر اقتدار میں آتی۔
نوجوانوں کی امید کی آخری کرن عمران خان جنہیں کہا جا رہا ہے کہ وہ ان سب چور لٹیروں سے ہٹ کر قیادت کرینگے۔ یعنی وہ فلٹر ہو کر آ رہے ہیں اگر وہ فلٹر ہو کر آرہے ہیں تو انکی زیر انتظام کے پی کے حکومت نے مدرسہ حقانیہ کو 30 کروڑ روپے کی گرانٹ کیوں دیدی۔ انہیں ایدھی کے مرنے کے بعد امداد دینا بھی یاد آرہا ہے اور جگہ دینا بھی اور بقول عمران خان کے کہ یہ کے پی کے گورنمنٹ کا کام ہے تو بھئی پھر آپ کس چیز کا کریڈٹ لیتے ہیں کہ کے پی کے میں یہ کام ہو رہا ہے وہ کام ہو رہا ہے۔ خدارا عوام کو بے وقوف بنانا بند کیجیے اور حکمرانوں میں سنجیدگی جیسی طاقت بھی ہوا کرتی ہے۔ دنیا بھر کے میچور سیاستدان میچور حرکتیں اور میچور فیصلے کیا کرتے ہیں۔
عوام ان حکمرانوں سے تنگ آچکے ہیں۔اس لیے وہ ہر اُس موڑ پر جذباتی ہوجاتے ہیں جب انہیں ایدھی جیسا دھچکا لگتا ہے اور عوام فوراََ سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ حکمرانوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ جب عوام کی برداشت کی انتہا ہو گئی تو وہ سڑکوں پر آتے ہوئے دیر نہیں لگائیں گے اور یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں سوائے عمران خان کے شوکت خانم ہسپتال کے ایسا کوئی فلاحی ادارہ موجود نہیں ہے جس کی بنیاد کسی سیاستدان نے رکھی ہو۔ ہمارے سیاستدانوں نے اُلٹا قوم کی خون پسینے کی رقم کو اپنی جیبیں بھرنے کا ذریعہ بنایا ہے، اس لیے ایدھی صاحب کا موازنہ اہلِ سیاست کیساتھ کرنا ایک غیرمنطقی بات ہے۔ جب غیرمسلموں کی مدد کرنے پر ان پر کفر کے فتوے لگائے گئے تو انہوں نے کہا کہ میں ایسی جنت میں جانا ہی نہیں چاہتا جس میں اس طرح کے لوگ ہوں بلکہ میں اس جنت میں جائوں گا جہاں میں اپنے غریبوں اور ناداروں کے ساتھ رہ سکوں۔حکمرانوں کو یہیں سے سبق سیکھنا چاہیے… ایدھی صاحب جیسے لوگ صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
محمد اکرم چوہدری
0 Comments