Edhi

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Visit Dar-us-Salam.com Islamic Bookstore Dar-us-Salam sells very Authentic high quality Islamic books, CDs, DVDs, digital Qurans, software, children books & toys, gifts, Islamic clothing and many other products.Visit their website at: https://dusp.org/

سلام ہے ایدھی تیری عظمت کو

عبدالستار ایدھی کو پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ رخصت کیا گیا۔ ان کی نماز
جنازہ میں سب ہی موجود تھے۔ پورے پاکستان نے اپنے اس عظیم محسن کو پورے احترام کے ساتھ رخصت کیا ہے۔ بلاشبہ ایدھی کسی شخصیت کا نہیں اب ایک فلسفہ کا نام ہے۔ ایدھی انسانیت کی خدمت کا نام ہے۔ ایدھی لا وارثوں کی وراثت کا نام ہے۔ جہاں ایدھی کو خراج تحسین پیش کرنا ہمارا قومی فرض ہے وہاں اس ملک کو ہزاروں اور ایدھیوں کی ضرورت ہے۔ ہر شہر کو ایدھی کی ضرورت ہے۔ ہر قصبہ کو ایدھی کی ضرورت ہے۔ ہر خاندان کو ایدھی کی ضرورت ہے۔ ہر محکمہ کو ایدھی کی ضرورت ہے۔ لیکن ایدھی بننا آسان نہیں۔ پیسے ہوتے ہوئے گاڑی نہ خریدنا آسان نہیں۔

امانت کو امانت سمجھنا آسان نہیں۔ یہاں تو ایک ہسپتال بنا کر لوگ قوم کے سر پر سوار ہیں۔ جنہوں نے ایک ہسپتال بنایا وہ بھی سب کو مفت علاج کی سہولت نہیں دے سکتے۔ جبکہ ایدھی بلا امتیاز سب کی مفت خدمت کرتا تھا۔ ایدھی لاکھوں انسانوں کی زندگی بچا کر بھی کسی چیز کا طلبگار نہیں تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ ایدھی کو علم نہیں تھا کہ قوم ان سے پیار کرتی ہے۔ لیکن وہ اس پیار کو اپنے کسی ذاتی منفعت کے لئے استعمال کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں انسانیت کی خدمت کے لئے کبھی سرکاری وسائل کا استعمال نہیں کیا۔ کبھی سرکار سے کوئی فنڈ نہیں لیا۔ جبکہ مقابلے پر ایک ہسپتال بنا کر وزارت عظمیٰ کا خواب دیکھنے والوں نے سرکاری زمین بھی لی۔ اور سرکاری وسائل بھی استعمال کئے۔ ایدھی نے عوام کی خدمت عوام کی مدد سے کی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ عوام کی خدمت کے لئے حکومتی وسائل کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ عوام کی خدمت عوام ہی کے وسائل سے ممکن ہے۔ گو کہ ایدھی نے ہزاروں نہیں لاکھوں لاوارث میتوں کی تدفین کی۔ تا ہم ان کی تدفین پر یہ کہا گیا ہے کہ تاریخ لکھی جائے گی کہ ایک مردہ معاشرہ کے ہجوم نے ایک زندہ انسان کی میت اٹھائی۔ واقعی ایدھی ایک عجب شخص تھا ۔ انسانیت کی خدمت کی بات کرتا تھا۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ

حیراں تو ہونگے آج آسماں والے
یہ کون فرشتہ صفت زمیں سے آیا ہے
جسد خاکی نابینا معلوم ہو تا ہے
یا شائد آنکھوں کی جگہ نور لا یا ہے
سنا تھا ابن آدم بے شمار ہیں لیکن
ایدھی اکیلا یتیموں کے حصہ آیا ہے
مت مارنا مجھ کو کھلانے کے ڈر سے با با
اک جھولا ایک غریب آدمی نے بنا یا ہے

ویسے تو عبدالستار ایدھی کو بے شمار عالمی و قومی اعزازات سے نوازا گیا۔ لیکن ایک بحث ان کی زندگی میں بھی رہی کہ عبدالستار ایدھی کو عالمی نوبل پرائز نہیں دیا گیا۔ اس سلسلے میں گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران نوبل انعام دینے والے منتظمین سے غیر رسمی ملاقات کے دوران میں نے ایک منتظم سے سوال کیا کہ جب ملالہ یوسف زئی کو نوبل انعام دیا گیا ہے تو عبدالستار ایدھی کو کیوں نہیں دیا گیا۔ تو اس منتظم کا موقف تھا کہ نوبل انعام کسی ایسے کام کے لئے دیا جاتا ہے جس میں کرنے والے کو معاشرہ یا حکومت کی طرف سے مزاحمت کا سامنا ہو۔ جبکہ ان کی تحقیق کے مطابق ایدھی کو اپنے کام کے لئے پاکستان کے معاشرہ اور حکومت کی جانب سے کسی مزاحمت کا سامنا نہیں رہا۔ اس لئے ان کی نوبل انعام کے لئے نامزدگی تو ہوئی لیکن ان پر ہمیشہ ایسے لوگوں کو ترجیح دی گئی جن کو مزاحمت کا سامنا رہا۔ میرے لئے جہاں یہ میرٹ حیران کن تھا۔ وہاں آج میں بہت خوش بھی ہوں کہ ایدھی کو انسانیت کی خدمت کے لئے پاکستان میں عوام اور حکومت کی جانب سے کسی مزاحمت کا سامنا نہیں رہا۔ ایدھی نے ثابت کیا کہ انسانیت کی خدمت کا راستہ آسان بھی ہے۔ اور پر وقار بھی۔ ایدھی بلا شبہ پاکستان میں انسانیت کی خدمت کے قائداعظم ہی ہیں۔ وہ پاکستان میں انسانیت کی خدمت کے سپہ سالار ہیں۔

سیاست کے سوداگروں کی بھیڑ میں
جہاں خون بہتا ہے اقتدار کی طمانیت میں
وہ ایک ہی تو تھا جس نے جلائی شمع
سچائی مطابقت وفا  ایمان و فلاح کیْ
سلام ہے ایدھی تیری عظمت کو
زندہ رہے گی انسانیت اب تیرے اعمال سے

مزمل سہروردی

Post a Comment

0 Comments